نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

نئی خلافت امریکہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہوگی ’’عالمی مستقبل کی نقشہ بندی‘‘ کے نام سے امریکی انٹیلی جنس کی 2020 ء کے لیے رپورٹ

تحریر: ایڈووکیٹ سعدیہ راحت (لاہور) ایل ایل بی آنرز، شریعہ اینڈ لاء (انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد) حال ہی میں ’’عالمی مستقبل کی نقشہ بندی‘‘ (Mapping the Global Future) کے نام سے نیشنل انٹیلی جینس کونسل (NIC) کی ایک رپورٹ منظر عام پر آئی ہے۔ یہ ادارہ CIA سے منسلک ایک تحقیقاتی ادارہ ہے جس نے دنیا بھر کے غیرسرکاری ماہرین کی معاونت سے امریکی پالیسی سازوں کے لیے یہ رپورٹ تیارکی ہے، تاکہ سن 2020ء تک کے ایک ممکنہ واقعات کا ایک خاکہ پیش کر کے امریکی ماہرین کو پہلے سے منصوبہ بندی کرنے اور اپنے مفادات کے تحفظ کا مکمل انتظام کرنے کے لیے معلومات حاصل ہوں۔ ہم قارئین کی دلچسپی کے لیے پہلے آگاہ کر دیں کہ اس رپورٹ میں مسلمانوں کے حوالے سے نہایت اہم صورتحال پر بحث کی گئی ہے۔ نیز2020ء تک امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ مسلمان دنیا میں خلافت کے قیام کے ذریعے ایک طاقت بن کر ابھریں گے۔ تاہم چند پہلوؤں سے خلافت کے بارے میں اس رپورٹ کے ذریعے عمداً غلط فہمی پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ یاد رہے کہ نیشنل انٹیلی جینس کونسل (NIC) وہی ادارہ ہے جس نے 2010 ء تک پاکستان کے ٹکڑے ہونے کی بھی پیشین گوئی کی ...

خلافت کا سنہری دور

تحریر: آفتاب احمد صدیقی آج اگر کوئی شخص مسلم دنیا پر نظر ڈالتا ہے تو اُسے ماسوائے جہالت‘ غربت‘ کر پشن‘ انتشار، خونریزی اور جنگ وجدل کے علاوہ کچھ نظر نہیںآتا۔ اور اسی طرح کے بہت سے حالات وواقعات عالمی میڈیا کی زینت بن کر مسلمانوں کو پوری دنیامیں جاہل‘گنوار اور وحشی پیش کرتے ہیں ۔ جبکہ اس قوم کو پوری انسانیت کی رہنمائی کے لیے بھیجا گیا ہے جس کی گواہی اللہ تعالی قران میں یوں دیتے ہیں کہ ’’ تم بہترین امت ہو جس کو لوگو ں کے لیے نکالا گیا ہے کیونکہ تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر یقین ر کھتے ہو‘‘۔ عالمی میڈیا ہمیشہ مسلمانوں کے کارناموں کو یکسر نظرانداز کرکے مسلمانوں کی انسانیت کے لیے تمام خدمات کو فراموش کردیتا ہے۔ کیونکہ ۳مارچ ۱۹۲۴ کو خلافت یعنی اسلامی ریاست کے خاتمہ کے بعد مسلمانوں سے وہ چھت چھن گئی جس کی وجہ سے وہ دنیا میں عالمی طاقت تھے اور پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی حدیث کا مفہوم ہے کہ’’ خلیفہ ایک ڈھال جس کے پیچھے رہ کر لڑا جاتا ہے اور وہ حملوں سے محفوظ رکھتی ہے۔‘‘ خلافت کے انہدام کے بعد یہ ڈھال ٹوٹ گئی اور مسلمانوں کی طاقت ریزہ ریزہ ...

ایک امت، ایک چاند، ایک رمضان اور ایک عید

تحریر: نوید بٹ اس سال روئیت ہلال کمیٹی کے سربراہ مفتی منیب الرحمن نے بڑے فخر سے اعلان فرمایا کہ اس دفعہ پورا پاکستان ایک دن رمضان شروع کر رہا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ اعلان درست نہ تھا کیونکہ نہ صرف پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین بلکہ وزیرستان کے مسلمان بھی ایک دن پہلے امت مسلمہ کے ساتھ رمضان کی شروعات کر چکے تھے۔ دوسرا اہم پہلو یہ کہ پاکستان نے قومیت کی بنیاد پر چاند قبول کرکے اپنے آپ کو امت مسلمہ سے الگ کر دیا اور امت کی وحدت کو پارہ پارہ کر دیا۔ مفتی منیب صاحب اس کے بارے میں کیا فرمائیں گے؟ کیا مفتی صاحب امت کو بتا سکتے ہیں کہ کہ قومیت پر مبنی روئیتِ ہلال کی اس بدعت کی شریعت سے کیا دلیل ملتی ہے۔  استعمار نے خلافت کا خاتمہ کر کے نہ صرف مسلمانوں کو چھوٹے چھوٹے حصوں تقسیم کر دیا بلکہ اس نے ہر حصے کو ایک مخصوص قومیت، قومی ترانہ، جھنڈا اور چاند بھی دے دیا۔ جھنڈے مسلمانوں کو سیاسی طور پر تقسیم کرنے کے لئے اور چاند امت کی مذہبی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے لئے۔ لیکن اس سے زیادہ افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس نے ایسے افراد بھی عوام کے سروں پر بٹھا دئے جو اس تقسیم کو اسلام سے ث...