نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

فرقہ واریت کی موجودگی میں وحدت امت کامسئلہ

آج مغربی معاشرے میں اسقاط حمل سے لے کر کلوننگ تک، سٹم سیل ریسرچ (Stem cell research) سے لے کر ہم جنس پرستی تک، عراق جنگ سے لے کر ٹیکس اصلاحات ، اور pro-choice, pro-life بحث سے لے کر اوباما کئیرتک بے شمار مسائل میں مختلف آراء پائی جاتی رہی ہیں لیکن یہ ان کے انتشار کا باعث نہیں ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جمہوری نظام میں ایک مسئلے پر موجود مختلف آراء(difference of opinion) میں سے ایک رائے کو نافذ کرنے کا ایک اپنا طریقہ کار ہے جو اسلام سے مختلف ہے۔ یہ طریقہ عوامی نمائندوں کی اکثریتِ رائے کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ پس اس طریقہ کار کے مطابق وہ اپنے تمام اختلاف کو ریاستی معاملات میں حل کر لیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمام لوگ ایک ہی رائے اختیار کر لیتے ہیں بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ریاست میں ایک رائے نافذ کر دی جاتی ہے۔ اور بقیہ رائے کے حامل لوگ اپنی رائے کے نفاذ کیلئے سیاسی طریقے سے اپنی آواز بلند کرتے رہتے ہیں۔ تاآکہ اس رائے کے حق میں رائے عامہ ہموار ہو جاتی ہے پس وہ رائے اکثریتی رائے کی بنیاد پر نافذ ہو جاتا ہے۔ اسلام میں اختلاف رائے میں ایک رائے نافذ کرنے کا طریقہ کارجمہوریت سے...

اسلام کی نیوکلئیر پالیسی اور ریاست خلافت کا نیوکلئیر ڈاکٹرائین

 اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا  وَأَعِدُّواْ لَہُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّۃٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَیْْلِ تُرْہِبُونَ بِہِ عَدْوَّ اللّہِ وَعَدُوَّکُمْ وَآخَرِیْنَ مِن دُونِہِمْ لاَ تَعْلَمُونَہُمُ اللّہُ یَعْلَمُہُمْ ’’اورجہاں تک ہو سکے(فوج کی جمعیت) کے زور سے اورگھوڑوں کے تیار رکھنے سے ان کے مقابلے کے لیے مستعد رہو کہ اس سے خدا کے دشمنوں اور تمہارے دشمنوں اور ان کے سوا اورلوگوں پر جن کو تم نہیں جانتے اورخدا جانتا ہے ہیبت بیٹھی رہے‘‘۔ (الانفال ۔60) دوسری جنگِ عظیم سے لے کر آج اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے تک عالمی سیاست میں ایٹمی ہتھیاروں کا رول نمایاں رہاہے۔خصوصاً ان ممالک کی خارجہ پالیسی میں جو کہ مانی ہوئی ایٹمی طاقتیں ہیں۔ ا ن میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین، بھارت، پاکستان اور شمالی کوریا شامل ہیں۔جب ہم ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق پالیسی ا ور سیاست کا مشاہدہ کرتے ہیں تو مندرجہ ذیل اہم نکات ہمارے سامنے آتے ہیں۔ ۱۔ نیو کلیئر انڈسٹری ۲۔ ایٹمی عدم پھیلاؤ اور اس سے متعلق بین الاقوامی معاہدات (Nuclear non proliferation) ۳۔ تخفیف اسلحہ کے معاہد...

آخرطلب نصرہ کیوں؟ - سوال و جواب

جب بھی ہم کہتے ہیں کہ تبدیلی لانے کا درست طریقہ ایک جماعت کا تبدیلی کیلئے رائے عامہ بنانا اور اہل قوت سے نصرہ حاصل کرنا ہے۔ تو ہمارے اکثر دوست اعتراض کرتے ہیں کہ آپ اہل قوت سے نصرہ کی بات کیوں کرتے ہیں؟  اگرچہ بہت بڑا طبقہ اس کی اہمیت کو سمجھتا ہے لیکن ایک بہت بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو اس کو نہ سمجھنے کے باعث طنز کرتے ہیں، بعض رائے عامہ بنانے کے دہائیوں کے کام کو نظر انداز کر کے سمجھتے ہیں کہ شائد یہ کوئی شارٹ کٹ کا چکرہے، بعض استعماری طاقتوں کے مسلم افواج میں اثر و نفوذ کے باعث اسے ناممکن جانتے ہیں، بعض کے لئے ہماری افواج کے ہاتھوں سے استعماری مفادات میں ہونے والی جنگوں میں مسلمانوں کے قتل عام کے باعث  یہ حد درجہ مضحکہ خیز چیز ہے۔   اور اس میں اچھے خاصے سمجھدار لوگ بھی شامل ہے۔ ان سب دوستوں کی سہولت کیلئے چند سوال و جواب پیش ہیں ؛ سوال: کیا طلب النصرہ خلافت کے قیام کا شرعی منہج  (طریقہ کار)ہے؟ جواب: خلافت قائم کرنے کا شرعی منہج رسول اللہ ﷺ کے وہ تمام اعمال ہیں جو ریاست قائم کرنے کیلئے مکہ میں کئے گئے جو مدینہ میں ایک ریاست کے قیام پر منتج ہوئے...

کیا قرآن و حدیث میں صیغہ امر (حکمیہ انداز) لازما واجب یا فرض ہوتا ہے ۔ (اصول الفقہ)

مسلمان صرف وحی کی اتباع کرتے ہیں ۔ یہ وحی ہمارے پاس دو شکلوں میں موجود ہے : ایک وحی متلو۔۔۔ یعنی وہ وحی جس کی تلاوت کی جاتی ہے،اس سے مراد قرآن الکریم ہے ۔ اور دوسرے وحی غیر متلو ۔۔۔یعنی وہ وحی جس کی تلاوت نہیں کی جاتی ۔ اس سے مراد حدیث ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا اور رسول اللہ ﷺکی زبان بھی عربی ہی تھی۔ اس لیے عربی زبان کا فہم ہونااز حد ضروری ہے تبھی ہم شرعی مآخذ سے احکامات کو ٹھیک ٹھیک اخذ کرسکیں گے ۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے سورۃ یوسف کی آیت نمبر 2میں ارشاد فرمایا: (انا انزلنَہٗ قرء ٰ نًا عربیًا لَّعلکم تعقلون ) ’’بے شک ہم نے اس قرآن کو نازل کیا تاکہ تم سمجھو‘‘ تاہم محض عربی زبان کی سمجھ شرعی مآخذ سے احکامات کو اخذ کرنے کے لیے کافی نہیں ۔ عربی زبان کا فہم ہوناشرعی متن یعنی (shariah Text) کو سمجھنے کی مختلف شرائط میں سے ایک شرط ہے۔ کیونکہ یہاں مقصد احکامات کو ایک خاص (قانونی ) متن سے اخذ کرنا ہے۔ جس کے لیے عربی زبان کی سمجھ کے علاوہ مزید امور کی بھی ضرورت ہے جیسے کہ وہ قرآئن جو فرائض اور حرام امور کا تعین کرتے ہیں، عام حکم اور اس کی تخصیص ، مطلق اور مقید ی...